Ravi Toll Plaza, Shahdara, Lahore
10:00 AM TO 08:00 PM

ہائی بلڈ پریشر کی وجوہات، علامات اور علاج

High-BP-Featured
Akseer e Jaryan - 1 Month Course
Herbal Diabetes Control Course - 1 Month Course
-13%
Bawaseer Course - 100% Herbal Piles Course - 1 Month Course
Original price was: ₨4,000.00.Current price is: ₨3,500.00.
Gond Siyah - 100% Original Salajit
Price range: ₨2,000.00 through ₨6,000.00
Price range: ₨2,000.00 through ₨6,000.00

ہائی بلڈ پریشر ایک ایسا مرض ہے جو اب عام موضوع بن چکا ہے۔ ہائی بلڈ پریشر ایک ایسا مرض ہے جس کا جلدی پتہ نہیں چلتا۔ اکثر لوگوں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ نہیں ہائی بلڈ پریشر ہے۔ اس مرض کو ایلوپیتھی اصطلاح میں ہائیپر ٹینشن جبکہ زبان طب میں فشار الدم قوی کہتے ہیں۔ اگر اس مرض کی طرف توجہ نہ دی جائے اور باقاعدہ علاج نہ کیا جائے تو حملہئ قلب (ہارٹ اٹیک) اور دماغی فالج(اسٹروک) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین طب و صحت کی رائے میں بلڈ پریشر کی باقاعدہ ریڈنگ ہونی چاہیے۔

ہائی بلڈپریشر کیا ہے؟

قلب جسم انسانی میں ایک ایسا عضو ہے جو پمپ کی طرح خون کو رگوں اور شریانوں میں بھیجتا رہتا ہے۔ خون پہلے بڑی شریانوں میں جاتا ہے، پھر درمیانے درجے کی شریانوں میں اور پھر آخر میں باریک شریانوں میں پہنچتا ہے۔ جسم کے ہر حصے میں خون پہنچانا ایک مشکل مرحلہ ہے۔ اس لیے قدرتی طور پر خون کے کافی دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کو بلڈ پریشر یا خون کا دباؤ کہتے ہیں۔ جب یہ دباؤ اوسط سے بڑھ جاتا ہے تو اس کو ہائی بلڈ پریشر کہتے ہیں۔ ورزش کرنے یا سخت کام کرنے سے خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے جبکہ سونے اور آرام کرنے سے یہ دباؤ کم ہوجاتا ہے۔

گردش خون میں بلڈپریشر ایک حد ضروری ہے لیکن زیادتی مرض ہے۔ امریکی ہارٹ ایسوسی کے نزدیک 140/90 ہائی بلڈ پریشر ہے جبکہ نارمل 120/80 ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر 110/75 نارمل بلڈپریشر کہلاتا ہے۔ خون کا نارمل دباؤ ہر شخص میں ہونا ضروری ہے کیونکہ اسی دباؤ کے باعث دل کے ذریعے خون جسم کے تمام اعضاء میں پہنچتا ہے اور تمام اعضاء اپنے افعال سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ جب بلڈپریشر کو چیک کیا جاتا ہے تو اوپر کا ہندسہ اس وقت کے دباؤ کو ظاہر کرتا ہے جب قلب سکڑتا ہے اس کو انقباضی دباؤ (سٹ لک پریشر) کہتے ہیں، نیچے کا ہندسہ دھڑکنوں کے درمیان دباؤ (سٹالک پریشر) کہتے ہیں۔ یعنی انبساطی دباؤ۔ بلڈ پریشر کے ساتھ بڑھتا رہتا ہے۔ اگر بلڈپریشر 130/90 سے بڑھ جائے تو خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خون کا دباؤ کام کی نوعیت کے لحاظ سے دن میں بدلتا رہتا ہے۔ اگر تبدیلی کے بغیر قائم رہے تو نہ صرف یہ مرض ہے بلکہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ عمر کے مختلف حصوں میں خون کا دباؤ بھی مختلف ہوتا ہے جس کا چارٹ درج ذیل ہے:۔

[wptb id=10339]

تشخیص:۔

بلڈ پریشر ہائی کی تشخیص ایک آلہ کی مدد سے کی جاتی ہے۔ صرف ایک بار کی ریڈنگ سے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ کم از کم تین بار ریڈنگ لینی چاہیے۔

کسی بھی مشورے کے لیے آپ ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں
0092-301-5959598,0092-311-1033392

بلڈ پریشر کی تشخیص کا صحیح طریقہ:۔

• بلڈ پریشر چیک کرنے سے پہلے یا بلڈ پریشر کی پیمائش کے دوران جو چیزیں ہم آپ کو بتانے لگے ہیں اُن کو مدنظر رکھیں۔
• بلڈ پریشر چیک کروانے سے تیس منٹ پہلے کچھ نہ کھائیں اور نہ پئیں۔
• بلڈپریشر کی پیمائش سے پہلے اپنے مثانے کی خالی رکھیں۔
• بلڈ پریشر کی پیمائش یا تشخیص سے پہلے 5 منٹ کے لیے کسی ایسی کرسی پر بیٹھیں جس پر بیٹھنے سے آپ کی کمر کو آرام محسوس ہو۔
• اپنے دونوں پاؤں زمین پر رکھیں اور آپ کے آرام دہ حالت میں زمین پر ہونے چاہیے کراس نہیں کرنے چاہئیں۔
• اپنے بازو کو پینے کی اونچائی کے برابر میز پر کف کے ساتھ آرام کریں۔
• تشخیص کے دوران اس بات کو یقینی بنائیں کہ بلڈ پریشر کف بہت زیادہ تنگ نہیں ہونا چاہیے۔ کف آپ کی ننگی جلد کے اوپر ہونا چاہیے نہ کہ لباس کے اوپر۔
• جب آپ کے بلڈ پریشر کی تشخیص کی جارہی ہو تو کسی قسم کی بات چیت نہ کریں۔
• اگر آپ اپنے بلڈ پریشر کی تشخیص گھر پر کررہے ہوں تو ان باتوں کو مدنظر رکھیں۔

تشخیصی علامات:۔

سرچکراتا ہے، کنپٹی اور گردن کے پیچھے کی شریانیں تڑپتی محسوس ہوتی ہیں، چہرے کی رنگ سرخ، نبض تیز اور کبھی پسینے کی زیادتی ہوتی ہے۔ ان علامتوں کی مدد سے اور آلہ فشار الدم سے چیک کرنے پر نارمل سے بڑھ جانے پر مرض کی تشخیص ہوجائے گی۔

ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے والے اعضاء:۔

ہائی بلڈ پریشر آپ کی صحت مختلف طریقوں سے نقصان پہنچاتا ہے۔ اور یہ آپ کے مندرجہ ذیل اعضاء کو خطرناک حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے۔مثلاً:۔دل۔ دماغ۔ گردے اور آنکھیں۔

ہائی بلڈپریشر کے اسباب:۔

خون میں کولیسٹرول کا بڑھ جانا:۔

یہ چکنائی کی ایک قسم ہے جو چکنائی اور شکر کھانے سے خون میں بنتی ہے۔ اگر یہ خون میں 200 تک رہتی ہے تو نارمل مقدار ہے اگر 200 سے240 تک ہے تو گاہے گاہے چیک کراتے رہا کریں اور بڑھنے نہ دیں، اگر یہ مقدار بڑھ جائے تو خون کی رگوں میں رکاوٹیں پیدا ہوکر بلڈ پریشر ہائی ہوجاتا ہے نیز کولیسٹرول شریانوں کو تنگ کردیتا ہے۔

ٹرائی گلیسرائڈز:۔

یہ بھی چکنائی کی ایک قسم ہے اس کی مقدار بڑھ جانے سے خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، اس کی حد مقدار 150 ملی گرام فی سو ملی لیٹر خون ہے، یہ خون کو گاڑھا کرتی ہے جس سے دل کو جانے والے خون کا بہاؤ کم ہوجاتا ہے۔

موروثی:۔

بعض خاندانوں میں یہ موروثی بھی ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض خاندانوں میں نمک کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جسمانی خرابیاں بھی سبب بن جاتی ہیں۔

مانع حمل ادویات کا استعمال:۔

جو خواتین مسلسل مانع حمل ادویات استعمال کرتی ہیں ان میں بھی خون کا دباؤ بڑھ جانے کی شکایت دیکھی گئی ہے، خاص کر وہ خواتین جو لمبا عرصہ تک یہ ادویات استعمال کرچکی ہوں۔

امراض گردہ:۔

گردہ کے امراض سے بھی بعض لوگوں میں خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

موٹاپا:۔

موٹے افراد میں اکثر خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

ڈپریشن:۔

خون کا دباؤ بڑھ جانے کا سب سے بڑا سبب جو مطب کے تجربات میں سامنے آیا ہے وہ ذہنی دباؤ اور عصبی تناؤ ہے جسے جدید طبی اصطلاح میں ڈپریشن کہا جاتا ہے۔ آج کل شہری زندگی میں انسان جن مشکلات و مسائل کا شکار ہے اور فضائل آلودگی کے علاوہ شور و غل کی وجہ سے ذہنی انتشار اور روزی کی فکر اس کے اعصاب پر ہمہ وقت دباؤ اور فکری اضمحلال کا شکار رہتے ہیں، پھر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جدید شہری زندگی کے مصنوعی لوازمات کی جدوجہد نے اس کو اس قدر بے بس کررکھا ہے کہ اس سے ہر وقت خون کا دباؤ بڑھتا رہتا ہے۔ بلڈپریشر ہائی اس وقت ایک ایسی بیماری کی صورت دنیا کے بیشتر بڑے شہروں میں پھیلی ہوئی ہے۔ جہاں کارکنوں کی بڑی تعداد ہے۔ اور وہ عملی زندگی کے کسی شعبے سے تعلق رکھتی ہو، اس مرض کا شکار ہے۔ بدلتے ہوئے زمانے کی قدروں، تہذیبی عدم روایتی طریق زندگی کی وجہ سے ذہن ہر وقت نہ سمجھنے والے مسائل میں الجھا رہتا ہے جو مایوسی، محرومی اور ناخوشی کے باعث معاشرتی زندگی پر حاوی ہوتے جارہے ہیں۔ روزگار، اپنے طبقے کے معیارات بلند رکھنے کی سکت کے لیے جدوجہد اس کے اصل اسباب ہیں اور زیادہ آباد علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی نے قوائے جسمانی کو اضمحلال کا شکار کردیا ہے۔ شوروغل ہو یا دھواں، گندے پانی کی آمیزش، خراب سڑکیں اور سواری کی عدم دستیابی، منی بسوں پر چڑھ کر بروقت کام پر پہنچنے کی سعی یہ سب دماغ اور ذہن کو متاثر کرتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور اب یہ ہر انسان کا مقدر بنتا جارہتا ہے۔ کم تنخواہیں جس سے ضروریات زندگی پوری نہیں ہوتیں اور بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ نہ ہونے سے گھریلو خواتین بھی اس کا شکار ہوتی جارہی ہیں۔ معاملات میں دیانت کا عنصر نہ ہونے کے سبب بے ایمانی اور ناجائز ذرائع سے آمدن بڑھانے کا رجحان، بڑے شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے مسائل میں جو اضافہ ہوا ہے۔ اس سے بیشتر آبادی دیانت اور مایوسی کا شکار ہوکر خون کا دباؤ بڑھنے کی شکایت میں مبتلا ہورہی ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کے شکار لوگ شروع میں بغیر ادویہ کے صرف احتیاطی تدابیر سے ہی بلڈپریشر بڑھنے کی شکایت سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔

ہائی بلڈپریشر سے بچاؤ کی تدابیر:۔

ورزش:۔

ایک ہفتے میں ڈھائی گھنٹے کے قریب ورزش کریں۔ یعنی روزانہ آدھا گھنٹا ورزش کریں۔ جس سے جسم میں آکسیجن جذب ہوجائے۔ معمولی ہائی بلڈ پریشر والے حضرات شروع میں صرف ہلکی ورزش اور سیر سے اسے نارمل کرسکتے ہیں، اچھی ورزش سیر کرنا ہے۔

نمک کم کریں:۔

نمک سے خون کا دباؤ کا بڑھ جاتا ہے۔ بعض بلکہ بیشتر افراد میں خون کا دباؤ بڑھنے کا سبب ہی نمک کا زیادہ استعمال ہے۔ اس لیے نمک کا بہت کم استعمال کرنے سے فائدہ ہوتا ہے، زیادہ مناسب یہ ہے کہ اپنے معالج کے مشورے سے چند دنوں کے لیے نمک بالکل ترک کرکے پھلوں، سبزیوں اور اناجوں سے قدرتی طور پر نمک کی کمی پوری کی جاسکتی ہے۔

وزن کم کریں:۔

موٹاپے سے بھی خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق موٹاپا کم کرنے والے ساٹھ فی صد مریضوں کا بلڈپریشر بغیر ادویہ کے کم ہوگیا۔

چکنائی کم لیں:۔

چکنائی سے کولیسٹرول اور ٹائی گلیسرائڈز کی اوسط سطح بڑھ کر خون کا دباؤ بڑھا دیتی ہے۔ اس لیے چکنائی کو غذائیں کم کریں، خاص کر وہ لوگ جن کو کولیسٹرول یا ٹرائی گلیسرائڈز کی وجہ سے خون کا دباؤ بڑھتا ہے۔ ان کی چکنائی کا استعمال ترک کرکے کولیسٹرول کی سطح کو نارمل سطح پر لانا چاہیے اور دوسرے افراد اس قدر چکنائی استعمال کریں جس سے یہ اوسط سے نہ بڑھے کیونکہ کولیسٹرول شریانوں کو تنگ اور سخت کرتا ہے جس سے خون آسانی سے نہیں گزر سکتا اور دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

ریشے بڑھائیں:۔

غذا میں ریشہ دار اشیاء (فائبر) کا استعمال زیادہ رکھیں۔ اس سے بڑی آنت صحیح رہتی ہے، قبض دور ہوجاتی ہے۔ چونکہ اناج، پھلوں اور سبزیوں میں ریشہ پایا جاتا ہے، اس لیے ان کا ریشہ قبض ختم کرتا ہے۔

خوش و خرم رہیں:۔

آج کل خون کا دباؤ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ذہنی دباؤ اور عصبی تناؤ یعنی ڈپریشن ہے۔ اس لیے غم، غصہ، پریشانی اور صدمہ سے دور رہ کر خوش و خرم رہیں۔ کسی کی دل آزاری نہ کریں۔

کیلشیم والی غذائیں کھائیں:۔

بعض مطالعات سے اندازہ ہوا ہے کہ کیلشیم والی غذاؤں کے استعمال سے خون کا بڑھا ہوا دباؤ کم ہوکر نارمل ہوگیا لیکن شرط ہے کہ آپ کے جسم میں کیلشیم کم ہو۔

تمباکونوشی:۔

تمباکونوشی ترک کریں، تمباکونوشی سے نہ صرف کولیسٹرول بڑھتا ہے بلکہ خون کا دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ عقل مندی اور دوراندیشی کا تقاضا ہے کہ تمباکونوشی شریانوں کو تنگ اور سخت کرتی ہے۔

مفید غذائیں:۔

سرکہ اور لیموں موزوں غذائیں ہیں۔ پیاز اور لہسن سالن میں ملاکر کھائیں اور نمک کا استعمال کم کریں۔ سبزی خوری زیادہ کریں۔ اس سے کولیسٹرول بھی نہیں بڑھے گا۔ زیادہ سزبی خوری سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ نہیں ہوتیں بلکہ یہ سختی دور ہوکر امراض قلب سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

حیاتین ”ج“ والی غذائیں:۔

حیاتین ”ج“ والی غذائیں ایچ ڈی ایل کی سطح بڑھاتی ہیں۔ اگر غذا میں بندگوبھی اور سنترہ، نارنگی استعمال کریں تو ریشہ کے فوائد بھی ملیں گے اور ایچ ڈی ایل کی سطح بھی کم ہوگی۔ حیاتین ج (وٹامن سی) کا زیادہ استعمال ایچ ڈی ایل کی سطح بلند کرتا ہے مگر جن غذاؤں میں حیاتین ج ہوتی ہے ان میں اسٹرابری، بندگوبھی، کنو، مالٹا، نارنگی، تازہ آلو اور ٹماٹر شامل ہیں۔ یہ حیاتین خون کے تھکے (رکاوٹ) بننے کو روکتی ہے۔

گوشت کم استعمال کریں:۔

گرشت سے چکنائی حاصل ہوتی ہے جو کولیسٹرول پیدا کرتی ہے لہٰذا گوشت بہت تھوڑی مقدار میں بس ضرورت کے مطابق استعمال کریں۔

دوائی علاج:۔

طب مشرقی کا اصول علاج یہ ہے کہ اسباب کے مطابق ادویہ تجویز کی جائیں۔ اس لیے ہائی بلڈ پریشر کے مختلف لوگوں میں اسباب مختلف ہوتے ہیں اس کے مطابق نسخہ جات تحریر کیے جاتے ہیں۔

جن لوگوں میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائڈز بڑھا ہوا ہو وہ لوگ مندرجہ ذیل نسخہ لیں:

ہوالشافی:۔

• آلو بخارا خشک تین عدد آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر نہار منہ صبح بیس یوم پی لیں۔
• لہسن مقشر دو عدد برنجاسف تین گرام آدھے گلاس پانی میں جوش دے کر چھان کر سہ پہر بعد عصر روزانہ بیس یوم پی لیں۔
• رات سونے سے قبل اسرول (چھوٹی چندن) دو چاول برابر، جوارش انارین آدھی چمچی میں ملاکر بیس یوم کھائیں۔
جن لوگوں کو ڈپریشن (عصبی تناؤ اور ذہنی دباؤ) کے سبب بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے ان لوگوں کے لیے حسب ذیل نسخہ تجویز کیا جاتا ہے۔

ہوالشافی:۔

• مفرح شیخ الرئیس آدھی چمچی چائے والی صبح نہار منہ کھائیں۔
• اسرول (چھوٹی چندن) پیش کر دو دو چاول برابر جوارش انارین آدھی آدھی چمچی میں ملاکر بعد غذا دوپہر، شام ایک ماہ تک کھائیں۔