Ravi Toll Plaza, Shahdara, Lahore
10:00 AM TO 08:00 PM

السر معدہ کی اقسام، وجوہات، علامات اور علاج

STOMACHULCER
Akseer e Jaryan - 1 Month Course
Herbal Diabetes Control Course - 1 Month Course
-13%
Bawaseer Course - 100% Herbal Piles Course - 1 Month Course
Original price was: ₨4,000.00.Current price is: ₨3,500.00.
Gond Siyah - 100% Original Salajit
Price range: ₨2,000.00 through ₨6,000.00
Price range: ₨2,000.00 through ₨6,000.00

پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق اس وقت ساڑھے تین کروڑ افراد معدے کے امراض میں مبتلا ہیں۔ ہر ایک سو بیس میں پندرہ چھوٹی آنت کے السر میں مب تلا ہوتے ہیں۔ عورتوں میں مردوں کے مقابلے میں یہ مرض زیادہ ہوتا ہے اور وہ درد ختم کرنے والی گولیاں استعمال کرتی ہیں۔ اس کی دوسری وجہ ڈپریشن ہے۔

السر معدہ کسے کہتے ہیں؟:۔
معدہ غذا کو سٹور کرتا ہے پھر اس غذا میں موجود تیزاب، نمک اور پیپسین مل کر شکر کو گلوکوز میں تبدیل کرتے ہیں۔ معدہ میں غذا زیادہ ہضم نہیں ہوتی بلکہ ہضم اور انجذاب کا عمل چھوٹی آنت میں منتقل ہوجاتا ہے۔ قدرتی نظام کے تحت چھوٹی آنت میں سوڈا بائی کارب پیدا ہوتا ہے جو وہیں پر غذا کی تیزابیت کو ختم کردیتا ہے۔ معدے کی اندرونی دیوار غذا کی نالی، چھوٹی آنت اور بڑی آنت میں موجود بعض خلیے جو تیزاب پیدا کرتے ہیں، وہ نظام ہضم کے لیے ضروری ہے۔ تیزاب کے منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے قدرتی نظام کے تحت کچھ خلیے حفاظتی مادے پیدا کرتے ہیں جب تیزاب اور حفاظتی مادوں میں توازن قائم نہیں رہتا تو تیزاب کی زیادتی السر کا سبب بن جاتی ہے۔ پوری کائنات کا نظام ایک توازن پر قائم ہے۔ خواہ انسانی جسم کی خودکار مشین ہویا کوئی اور شے۔ اس طرح حفاظتی مادوں کی کمی عدم توازن سے معدہ کی دیواروں اور سطح پر زخم بن جاتے ہیں۔ چھوٹی آنت کا ابتدائی حصہ سوڈابائی کارب کی کمی سے متاثر ہوتا ہے۔ جسے اعتدال پر رکھنا ضروری ہے۔

حفاظتی مادوں کی کمی سے تیزاب کی زیادتی ہوجاتی ہے پھر یہ تیزاب سوزش کا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ اگر احتیاطی تدابیر نہ کی جائیں تو السر بن جاتا ہے۔ عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ 95 فی صد مریض السر معدہ یا چھوٹی آنت کے ابتدائی حصے کے زخم میں مبتلا ہوتے ہیں۔

السر کی اقسام:۔
معدہ کا السر (Gastric Ulcer)
چھوٹی آنت کا السر (Doudenal Ulcer)
دونوں صورتوں میں (Peptic Ulcer)
غذا کی نالی میں ہوتو (Esophogeat Ulcer) کہلاتا ہے۔

کسی بھی مشورے کے لیے آپ ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں
0092-301-5959598,0092-311-1033392

السر کیوں ہوتا ہے یا توازن بگڑنے کے اسباب؟
حفظان صحت کے خلاف تیار کردہ ناقص غذائی اشیاء میں بے اعتدالی، جراثیم آلودہ پانی، اسہال یعنی دست آنا، نظام ہضم کی خرابی، قبض، مرچ مصالحہ جات اور مرغن تلی ہوئی اشیاء کا بکثرت استعمال، گلے سڑے پھل، پریشانی، غم و غصہ، جنسی ہارمونز پیدا کرنے والی ادویہ، درد شکن گولیاں اور کارٹی سون سے معدہ کے تیزاب اور حفاظتی مادوں کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ علاوہ ازیں امریکہ انگلینڈ اور جرمنی میں ہونے والی تحقیقات کے بعد 1983 میں کہا گیا کہ معدہ میں ایک جرثومہ ہیلی کو بیکٹر پائلوری (Helicobacter Pylori) السر کا سبب بنتا ہے۔ یہ پانی اور غذا کے ذریعے معدہ میں داخل ہوکر اس کی اندرونی سطح پر رہائش اختیار کرلیتا ہے۔ السر کے مریضوں میں اس جراثیم کی موجودگی کا تناسب95 فی صد ہے۔ ان تحقیقات کے نتیجے کے مطابق اس جراثیم کی غیر موجودگی میں السر کی بیماری نہایت کم یاب ہے۔

اگر یہ جراثیم ختم کردیا جائے تو السر کا مرض دوبارہ نہیں ہوتا، اگر جراثیم ختم نہ ہوتو کامیاب علاج کے باوجود مرض دوبارہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

حال ہی میں ہونے والی جدید تحقیق کے مطابق چار سائنس دانوں جن میں دو ماہر نفسیات اور ماہر امراض معدہ و جگر تھے نے اپنے خیال میں جو جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں ظاہر کیا ہے کہا ہے کہ ضروری نہیں جس شخص میں کوبیکٹر پائلوری جراثیم موجود ہو السر کا شکار ہوجائے، انہوں نے ذہنی دباؤ کے شکار لوگوں کے اس مرض میں مبتلا ہونے کا ذکر کیا ہے ہوسکتا ہے کہ ذہنی دباؤ اور ہیلی کو بیکٹر پائلوری جراثیم کا آپس میں کوئی تعلق ہو۔ مکمل تحقیق کے بعد ہی کچھ کہا جاسکے گا۔

السر کی علامات:۔
السر کے مریض کو بدہضمی، پیٹ درد، غذا کی نالی اور معدہ کے مقام پر جلن اور درد ہوتی ہے۔ مرچ مصالحہ جات کی صورت میں جلن اور درد بڑھ جاتی ہے۔ یہ درد عام طور پر معدہ کے اوپر والے حصے میں ہوتا ہے۔ بعض لوگوں میں 2 تا3 گھنٹے درد ہوتا ہے جبکہ معدہ کے السر کی نسبت چھوٹی آنت کے پہلے حصے کے السر میں خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ایسے مریض رات کے کسی حصے میں بیدار ہوجاتے ہیں، کچھ کھانے کے بعد درد میں کمی محسوس کرتے ہیں اس کے برعکس معدہ کے السر کے مریض کھانے سے افاقہ محسوس کرتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ابتدائی علامات زیادہ نہیں ہوتیں اور اچانک قے یا خون آجاتا ہے۔ معدہ اور آنتوں کی اندرونی سطح کے نیچے خون کی بے شمار رگیں ہوتی ہیں ان میں السر کے گہرا ہونے سے سوراخ بن جاتے ہیں تو خون بہنے لگتا ہے۔ بعض اوقات معدے کی دیواروں میں سوراخ ہونے سے خون آنے لگتا ہے۔ السر کے مریض کی زبان سرخ اور چمکدار ہوجاتی ہے۔

تشخیص:۔
السر کی تشخیص عام طور پر علامات ہی سے ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تشخیص کے دو جدید طریقے ہیں۔

۱۔بیریم سے معدہ کا معائنہ:۔
یہ ایک سفید محلول نما دھات ہے جس میں سے ایکسرے کی شعاعیں نہیں گزر سکتیں، اس کا محلول پلاکر مختلف زاویوں سے ایکسرے لیے جاتے ہیں۔ 5 ملی میٹر سے بڑا السر اس ٹیسٹ میں آتا ہے۔ چھوٹے السر نظر نہیں آتے اور سوزش کا تو اندازہ ہی نہیں ہوسکتا۔

۲۔ اینڈوسکوپی:۔
یہ اس وقت سب سے جدید تشخیصی ذریعہ ہے۔ یہ ایک باریک لمبی نال ہے۔ جو ہر طرف مڑجاتی ہے۔ اس کے آگے والے حصے میں تیز روشنی اور کیمرہ نصب ہے۔ مریض کے گلے کو سن کرکے اور نلکی منہ کے ذریعے پیٹ میں داخل کردی جاتی ہے۔ چونکہ براہ راست معائنہ ہوتا ہے۔ اس لیے معدہ اور آنت کا ابتدائی حصہ دیکھا جاسکتا ہے اور چھوٹے سے چھوٹا زخم اور سوزش بھی نظر آجاتی ہے، بڑھے ہوئے تیزاب کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر:۔
• السر پیدا کرنیوالی ادویہ سے احتیاط کی جائے۔ خصوصاً درد ختم کرنے والی گولیاں اشد ضرورت میں ہی استعمال کی جائیں اور وہ بھی معالج کے مشورے سے ضرورت کے مطابق لی جائیں۔
• نشہ آور اشیاء الکوحل اور تمباکونوشی سے پرہیز کریں۔
• کافی اور چائے بھی اس مرض کا سبب بن سکتے ہیں، ان سے احتیاط مناسب ہے۔
• ذہنی دباؤ اور غیر ضروری تھکن سے دور رہا جائے۔
• غذائی اعتبار سے تیز مرچ مصالحہ جات، تلی ہوئی اشیاء اور کھٹی اشیاء کا استعمال ترک کردیں۔
• مرچ کے بارے یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ سرخ ہویا سبز بلکہ کالی مرچ بھی تیزابیت بڑھاتی ہے اور یکساں مضر ہے۔ ایسی غذائیں جن سے تیزابیت بڑھتی ہویا حفاظتی مادوں کی مقدار کم ہوتی ہو نیز گیس والے مشروبات، کولا، بوتلیں بھی السر کا سبب بن سکتی ہیں۔
• السر کے مریض کو جلد از جلد علاج کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ جب جلن اور درد کا احساس ہوتو علاج شروع کردیں، علاج میں تاخیر سے معدہ کا زخم بھرکر پھٹ سکتا ہے۔ جس سے پیچیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

علاج:۔
• ملٹھی پیش کر سفوف بنالیں۔ نہار منہ و سہ پہر 3 گرام ہمراہ شربت بادیان دو چمچ استعمال کریں۔
• رال اور گوند کیکر پیش کر ہم وزن رکھ لیں، دوپہر، شام کھانے سے قبل ایک ایک گرام تازہ پانی سے کھالیا کریں۔ کم از کم دو تین ماہ علاج کریں۔